نئی دہلی،19/فروری(ایس او نیوز/ آئی این ایس انڈیا) سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل نے ایودھیا میں مسلمانوں کے ایک گروپ کی جانب سے رام مندر ٹرسٹ کو خط لکھا ہے اور کہا ہے کہ منہدم کی گئی بابری مسجد کے قریب کی پانچ ایکڑ زمین کو ’سناتن دھرم‘کے لیے چھوڑ دی جائے کیونکہ وہاں پر ایک قبرستان ہے۔اڈوکیٹ ایم آر شمشاد نے خط میں رام مندر جنم بھومی علاقے کے تمام 10 ٹرسٹی سے خطاب کیا ہے۔اس میں شمشاد نے کہا ہے کہ مسلمانوں کے مطابق بابری مسجد والے علاقے میں ’گنج شہیدان‘نام کا ایک قبرستان ہے جہاں ایودھیا میں 1885 میں ہوئے فسادات میں جان گنوانے والے 75 مسلمانوں کو دفن کیا گیا تھا۔انہوں نے کہاکہ فیض آباد گزٹ میں بھی اس کا ذکر ہے۔ وکیل نے کہاکہ مرکزی حکومت نے خوبصورت رام مندر کی تعمیر کے لئے مسلمانوں کے قبرستان کا استعمال نہ کرنے کے معاملے پر غور نہیں کیا۔اس سے ’دھرم‘کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔اس میں کہا گیاکہ سناتن دھرم کی مذہبی کتابوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے آپ کو یہ غور کرنا ہوگا کہ کیا رام مندر کی بنیاد مسلمانوں کی قبروں پر رکھی جا سکتی ہے؟ اب یہ فیصلہ ٹرسٹ کے انتظامیہ کو لینا ہے۔خط میں کہا گیاکہ بھگوان رام کے تئیں پورے احترام اور عاجزی کے ساتھ میں درخواست کرتا ہوں کہ منہدم کی گئی مسجد کے قریب کی تقریبا چار سے پانچ ایکڑ کی اس زمین کا استعمال نہ کیا جائے جہاں مسلمانوں کی قبریں ہیں۔